اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے نے جنیوا میں امریکی ہم منصب جان کیری کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: جنیوا 2 کانفرنس کے انعقاد کا مقصد شام کے بحران کا پرامن راہ حل تلاش کرنا ہے اور شام کی موجودہ صورت حال نے اس کانفرنس کے انعقاد اور شام پر حملے کے آپشن کو دور کرنے کے لئے نئے مواقع فراہم کئے ہیں۔ لاوروف نے کہا: شام میں امن و آشتی کے لئے مواقع ابھی موجود ہیں اور ان مواقع کا ضیاع، درست نہيں ہے اسی بنا پر روس شام کے مسئلے کو سیاسی راہ حل کی طرف آگے بڑھانے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ انھوں نے کہا: ہم شام کے مسئلے میں امریکہ کے ساتھ مشترکہ موقف تک پہنچنا چاہتے ہیں اور توقع ہے کہ امریکہ بھی اس سلسلے میں کوشش کرے گا؛ اگر ہم اس قاعدے کے پابند رہیں تو کامیاب ہوسکتے ہیں۔ جان کیری نے کہا: روسی تجویز کو آزمانے کے لئے اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ تعاون کروں گا۔ انھوں نے کہا: سیاسی راہ حل فوجی راہ حل سے بہتر ہے اور شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کی بین الاقوامی نگرانی کے لئے نظام الاوقات کا تعین ہونا چاہئے۔جان کیری ـ جن کا ملک شام پر فوجی حملہ کرنے کا مسئلہ اٹھا کر اندرونی اور بیرونی سطح پر شدید دباؤ کا سامنا کررہا ہے ـ نے کہا: شام کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے ـ اور فوجی حملے کے بغیر ـ حل ہونے کی صورت میں واشنگٹن کو چین آئے گا۔ کیری نے کہا: امریکہ اور روس کے درمیان شام کے مسئلے کے حوالے سے اختلافات ہیں اسی بنا پر جنیوا کا موضوع زیر بحث آیا اور پھر بعض مسائل پر ہمارا موقف مشترک ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
13 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 462693
روسی وزیر خارجہ نے کہا: شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کا مسئلہ حل کرنے کے لئے اس ملک پر حملے کی مزید کوئی ضرورت نہیں ہے۔